PakExamPoint learning library · Legal Documents

آئینِ پاکستان 1973 — اردو میں معلومات

پاکستان کا دستور 1973 اردو میں آسان وضاحت، مثالوں اور آرٹیکل 1 تا 280 کے ساتھ۔ بنیادی حقوق، وفاق، صوبے، عدالتیں، انتخابات اور 27ویں ترمیم کے بارے میں تفصیلی معلومات۔

By PakExamPoint Published 14 min read 2,792 words
Start reading

Your learning goals

آئینِ پاکستان اردو میں پڑھیں

  1. اس صفحے پر آئینِ پاکستان 1973 اردو میں آسان الفاظ میں ہے۔
  2. تمام حصے آرٹیکل 1 سے 280 تک شامل ہیں جن میں بنیادی حقوق، وفاق، صوبے، مالیات، عدالتیں، انتخابات اور اسلامی احکامات شامل ہیں۔
  3. 27ویں ترمیم (2025) کے تحت فیڈرل آئینی عدالت قائم کی گئی ہے۔
  4. ہر آرٹیکل کے ساتھ آسان ترجمہ دیا گیا ہے تاکہ طلبہ اور پڑھنے والوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

پاکستان کا دستور بنیادی قانون ہے جو 1973 میں متعارف کرایا گیا۔ یہ پاکستان کے وفاقی نظام، عوام کے بنیادی حقوق اور صوبوں کے باہم تعلقات کو طے کرتا ہے۔

تعارف: اس صفحے پر پاکستان کا دستور اردو میں آسان وضاحت اور مثالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔ تمام حصے (آرٹیکل 1 تا 280) شامل ہیں: بنیادی حقوق، وفاق، صوبے، مالیات، عدالتیں، انتخابات، اسلامی احکامات، ہنگامی احکامات، ترمیم اور باقی احکامات۔

پہلا حصہ — تعارفی احکامات

آرٹیکل 1 — نام اور حاکمیت

(1) پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

(2) تمام طاقت عوام کی ہے جو یہ طاقت وفاقی اور صوبائی جمہوریہ اداروں اور دستوری میکانزم کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔

(3) پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔

آسان الفاظ میں:

پاکستان ایک وفاقی (فیڈرل) ملک ہے جس میں چار صوبے اور کئی علاقے ہیں، یہاں کی حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے بنتی ہے، یہاں کا مذہب اسلام ہے اور یہاں کے لوگوں کو دستور میں دیے گئے حقوق حاصل ہیں۔

آرٹیکل 2 — ریاست کا مذہب

اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔

آسان الفاظ میں:

ہمارے ملک کا دین اسلام ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی احکامات کے مطابق کام کروائے۔ اسلام میں جبر نہیں کرنے اور ہر شخص کو اپنا مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے۔

آرٹیکل 3 — بنیادی حقوق کا تحفظ

پاکستانی عوام کو بنیادی حقوق اور انسانی عزت کی بلند حیثیت حاصل ہوگی۔

آرٹیکل 4 — قانون کے سامنے مساوات اور امتیاز نہ ہونا

ریاست کسی فرد کو جنس، مذہب، ذات یا کسی بھی ایسے بنیاد پر امتیاز نہیں دے گی۔

آسان الفاظ میں:

اگر آپ کا کوئی بھی بھائی، عورت یا کوئی بھی شہری ہو، قانون سب کے لیے برابر ہے۔ کسی کو صرف اپنے مذہب یا ذات کی بنا پر فائدہ یا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

آرٹیکل 6 — جان اور آزادی کی حفاظت

کسی شخص کی جان یا آزادی قانون کے مطابق ہی ہٹائی جا سکتی ہے، اس کے علاوہ نہیں۔

دوسرا حصہ — بنیادی حقوق اور پالیسی کے اصول (آرٹیکل 7 تا 40)

یہ حصہ ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق بیان کرتا ہے۔ انہیں پڑھتے ہوئے یہ سمجھیں کہ حکومت کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔

آرٹیکل 7 — جان اور ذاتی آزادی کا حق

ہر شخص کو زندگی اور ذاتی آزادی کا حق حاصل ہے۔

آسان الفاظ میں:

پولیس کسی کو بغیر وجہ گرفتار نہیں کر سکتی۔ اگر گرفتاری ہو تو آپ کو وجہ بتائی جائے گی اور 24 گھنٹے کے اندر قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

آرٹیکل 9 — آزادانہ سفر اور نقل و حمل کا حق

ہر شخص کو پورے پاکستان میں آزادانہ جولنا، رہنا اور بسنا کا حق حاصل ہے۔

آسان الفاظ میں:

آپ کسی بھی شہر یا قصبے میں جا سکتے ہیں اور وہاں رہ سکتے ہیں، حکومت آپ کو روک نہیں سکتی جب تک کوئی قانونی وجہ نہ ہو۔

آرٹیکل 10 — گرفتاری سے تحفظ کا حق

ہر گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہ سے آگاہ کرنے اور 24 گھنٹے کے اندر مقامی قاضی کے سامنے پیش کروانے کا حق حاصل ہے۔

آرٹیکل 11 — منصفانہ محاکمے کا حق

ہر شخص کو ذاتی اختیار والی عدالت کے سامنے منصفانہ محاکمے کا حق حاصل ہے۔

آرٹیکل 12 — اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی

ہر شخص کو اظہارِ رائے، کھل کر بات کرنے اور آزادی سے خبریں، رسالے اور ہفتہ وار اشاعت کرنے کا حق حاصل ہے۔

آسان الفاظ میں:

آپ اخبارات میں اپنی رائے لکھ سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر خیال رکھ سکتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ صرف سیکیورٹی یا اچھی اخلاق کی حدود میں پابندی ممکن ہے۔

آرٹیکل 13 — اجتماعی اختیار کی آزادی

ہر شخص کو بغیر ہتھیار کے پُرامنہ اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔

آرٹیکل 15 — تعلیم کا حق

بچوں کو تعلیم کا حق حاصل ہے، اور ریاست 16 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔

آسان الفاظ میں:

ہر بچے کو 16 سال تک سکول جانا لازم ہے اور حکومت اسے مفت فراہم کرے گی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے یہ برابر ہے۔

آرٹیکل 16 — جملہ اور املاک کا حق

ہر شخص کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں جملہ رکھنے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ دستور کی شقیں پر عمل کیا جائے۔

آرٹیکل 17 — مذہبی آزادی

ہر شخص کو اپنا مذہب اختیار کرنے، عمل کرنے اور دوسروں تک پھیلانے کا حق حاصل ہے۔

آسان الفاظ میں:

کوئی آپ کو اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ ہی آپ کے مذہب کی پیروی کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ حکومت کسی کو زبردستی مسلم یا غیر مسلم نہیں بنا سکتی۔

آرٹیکل 19 — خواتین کے تحفظ کا حق

ریاست زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی ترقی کے لیے اقدامات کرے گی اور ان کی مکمل شرکت اور برابری کو یقینی بنائے گی۔

آرٹیکل 20 — اقلیتوں کے تحفظ کا حق

ریاست دستور کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔

آسان الفاظ میں:

ملک میں مسلمانوں کے علاوہ شیعہ، عیسائی، ہندو اور دیگر اقلیتوں کو اپنی زبان، مذہب اور تعلیم کی آزادی حاصل ہے اور ان کے نمائندے بھی اداروں میں ہوتے ہیں۔

آرٹیکل 24 — ماحول کے تحفظ کا حق

ریاست ماحول کا تحفظ کرے گی اور پائیدار ترقی کے لیے اقدامات کرے گی۔

آرٹیکل 31 — قومی تحفظ کا حق

ریاست پاکستان کا قومی تحفظ فراہم کرے گی۔

تیسرا حصہ — پاکستان کا وفاق (آرٹیکل 41 تا 100)

یہ حصہ مرکزی حکومت کی ساخت بیان کرتا ہے: صدر پاکستان، مجلسِ شورا (پارلیمنٹ) اور وفاقی حکومت۔

آرٹیکل 41 — صدر پاکستان

(1) پاکستان کا ایک صدر ہوگا جو ریاست کا سربراہ اور مسلح قواوں کا سربراہ ہوگا۔

(2) صدر کا انتخاب سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان مشترکہ طور پر کریں گے۔

(3) صدر کی مدت پانچ سال ہوگی۔

(4) صدر دوبارہ انتخاب کے لیے اہل ہوگا۔

آسان الفاظ میں:

صدر پاکستان ملک کا سب سے بڑا عہدیدار ہوتا ہے۔ اس کا انتخاب پارلیمنٹ کے دونوں گھر مل کر کرتی ہے، اس کی مدت 5 سال ہوتی ہے اور وہ دوبارہ انتخاب ہو سکتا ہے۔

آرٹیکل 48 — مجلسِ شورا (پارلیمنٹ)

پاکستان کی ایک پارلیمنٹ ہوگی جسے مجلسِ شورا کہا جاتا ہے اور جس میں صدر، سینیٹ اور قومی اسمبلی شامل ہوں گے۔

آسان الفاظ میں:

پارلیمنٹ ملک کا سب سے بڑا فیصلہ کن ادارہ ہے۔ یہاں قوانین بنتی ہیں، بجٹ پاس ہوتا ہے، انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے سوال کیے جاتے ہیں اور صدر کا انتخاب یہاں ہوتا ہے۔

آرٹیکل 49 — قومی اسمبلی

قومی اسمبلی کے ارکان ہر صوبے سے آبادی کی بنیاد پر منتخب کیے جائیں گے۔

آسان الفاظ میں:

قومی اسمبلی کے رکن کی تعداد آبادی کے حساب سے طے ہوتی ہے۔ اس میں خواتین اور غیر مسلمانوں کے لیے بھی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں۔

آرٹیکل 50 — سینیٹ

سینیٹ ہر صوبے سے برابر نمائندگی کے لیے بنائی جائے گی تاکہ چھوٹے صوبوں کی آواز بھی سنی جائے۔

آسان الفاظ میں:

سینیٹ ایک ایسا گھر ہے جہاں ہر صوبہ برابر نمائندگی رکھتا ہے۔ اس کے ارکان صوبائی اسمبلیاں چنتی ہیں۔

آرٹیکل 54 — دستور میں ترمیم کا اختیار

پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے بل پاس کر کے دستور میں ترمیم کر سکتی ہے۔

آرٹیکل 56 — پارلیمنٹ کی مدت

قومی اسمبلی پانچ سال کے لیے برقرار رہے گی، ماسوائے اس کے پہلے تحلیل ہونے کے۔

چوتھا حصہ — صوبے (آرٹیکل 101 تا 141)

یہ حصہ ہر صوبے کی حکومت، صوبائی اسمبلی، گورنر، وزیر اعلیٰ اور مقامی اداروں کو بیان کرتا ہے۔

آرٹیکل 101 — صوبے کا گورنر

ہر صوبے کے لیے ایک گورنر ہوگا جو صوبے کا سربراہ اور وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوگا۔

آسان الفاظ میں:

گورنر صوبے کا سربراہ ہوتا ہے جو صدر کی طرف سے صوبے میں نگرانی کرتا ہے اور اس کے فیصلے پر دستخط کرتا ہے۔

آرٹیکل 102 — صوبائی اسمبلی

ہر صوبے کے لیے ایک صوبائی اسمبلی ہوگی جس کے ارکان منتخب ہوں گے۔

آرٹیکل 105 — وزیر اعلیٰ

ہر صوبے کے لیے ایک وزیر اعلیٰ ہوگا جو صوبے کی حکومت کا سربراہ ہوگا۔

آسان الفاظ میں:

وزیر اعلیٰ صوبے کا سب سے بڑا عہدیدار ہوتا ہے۔ اس کا انتخاب صوبائی اسمبلی کرتی ہے اور اسے اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد ہونا چاہیے ورنہ حکومت گر جاتی ہے۔

آرٹیکل 107 — صوبے کا کابینہ

ہر صوبے کا ایک کابینہ ہوگا جو صوبے کی انتظامیہ کے لیے ذمہ دار ہوگا۔

آرٹیکل 113 — مقامی حکومت

ہر صوبے میں ایک مقامی حکومت ہوگی جس میں صوبائی اسمبلی، صوبے کی حکومت اور مقامی کونسلیں شامل ہوں گے۔

آسان الفاظ میں:

مقامی حکومت گورنمنٹ اور ریاست کے مقامی ادارے ہیں جو شہر اور ضلع کے عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور سڑک، پانی، صفائی اور تعلیم جیسے کام کرتے ہیں۔

پانچواں حصہ — وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات (آرٹیکل 142 تا 159)

یہ حصہ بتاتا ہے کہ کون سا قانون بنائے گا، کون سے ادارے مشترکہ ہوں گے اور پانی جیسے مسائل کا حل کیسے ہوگا۔

آرٹیکل 142 — وفاقی اور صوبائی قوانین کا موضوع

پارلیمنٹ کو پورے ملک کے لیے قوانین بنانے کا اختیار ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی اپنے صوبے کے لیے قوانین بناتی ہے۔

آسان الفاظ میں:

دفاع، کرنسی، خارجہ امور اور ریاستی بیمہ جیسے مرکزی معاملات پارلیمنٹ کے پاس ہیں، جبکہ پولیس، زراعت، تعلیم اور صحت جیسے معاملات صوبے اپنے قوانین بناتے ہیں۔ اگر دونوں میں تکرار ہو تو وفاقی قانون مقدم ہوگا۔

آرٹیکل 143 — وفاقی اور صوبائی قانون میں تکرار

وفاقی قانون اور صوبائی قانون میں تکرار کی صورت میں وفاقی قانون نافذ رہے گا۔

آرٹیکل 153 — مشترکہ مفادات کا کونسل

ایک کونسل ہوگی جو وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلاف حل کرے گی اور پانی کی فراہمی سے متعلق شکایتیں دیکھے گا۔

آسان الفاظ میں:

اگر پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کا معاملہ پیدا ہو تو مشترکہ مفادات کا کونسل (CCI) فیصلہ کرے گا جس میں وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر شامل ہوتے ہیں۔

چھٹا حصہ — مالیات، جملہ، معاہدے اور مقدمات (آرٹیکل 160 تا 174)

آرٹیکل 160 — قومی مالیاتی کمیشن

ایک ایسی کمیشن ہوگی جو وفاق اور صوبوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کی سفارش کرے گی۔

آسان الفاظ میں:

مرکز اور صوبوں میں ٹیکس اور آمدنی کیسے بانٹی جائے گی، اس کا فیصلہ ایک کمیشن کرتی ہے جسے قومی مالیاتی کمیشن کہتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کو بھی اپنے وسائل کے لیے مناسب حصہ ملے تاکہ وہ اپنے اسپتال، اسکول اور سڑکیں بنوا سکیں۔

آرٹیکل 168 — آڈیٹر جنرل آف پاکستان

ایک آڈیٹر جنرل ہوگا جو وفاق اور صوبوں کے حساب کا جائزہ لے گا۔

آسان الفاظ میں:

حکومت کے خرچے کو کسی اور کی نظر سے دیکھنے کے لیے آڈیٹر جنرل رکھا جاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ پیسہ کہاں خرچ ہوا اور کیا ٹھیک استعمال ہوا۔

آرٹیکل 172 — بلا مالک جملہ

بلا مالک جملہ وفاق میں منتقل ہو جائے گا۔

ساتواں حصہ — عدالتیں (آرٹیکل 175 تا 212)

یہ حصہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، فیڈرل شرعیت کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کو بیان کرتا ہے۔ 27ویں ترمیم (2025) نے فیڈرل کنسٹیٹوشنل کورٹ قائم کی ہے۔

آرٹیکل 175 — عدالتوں کا قیام اور اختیار

پاکستان کی سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور قانون کے مطابق بنی گئی دیگر عدالتیں ہوں گی۔

آسان الفاظ میں:

ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے، ہر صوبے کی اپنی ہائی کورٹ ہے اور نیچے ڈسٹرکٹ عدالتیں کام کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب عدالتوں پر لاگو ہوتا ہے اور آپ کو کہیں بھی سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

آرٹیکل 176 — سپریم کورٹ کی تشکیل

سپریم کورٹ میں ایک چیف جسٹس اور قانون کے مطابق دیگر جج شامل ہوں گے۔

آرٹیکل 179 — ریٹائرمنٹ کی عمر

سپریم کورٹ کا چیف جسٹس 65 سال اور دیگر جج 62 سال کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔

آرٹیکل 184 — سپریم کورٹ کا اصل اختیار

سپریم کورٹ کو دستور سے متعلق معاملات میں اصل اختیار حاصل ہے۔

آسان الفاظ میں:

اگر کوئی قانون یا حکومتی فیصلہ دستور کے خلاف ہو تو آپ سپریم کورٹ میں درخواست دے سکتے ہیں اور کورٹ ایسے فیصلے کو باطل کر سکتی ہے۔

آرٹیکل 209 — سپریم جوڈیشل کونسل

ایک سپریم جوڈیشل کونسل ہوگی۔

آٹھواں حصہ — انتخابات (آرٹیکل 213 تا 226)

آرٹیکل 213 — چیف الیکشن کمشنر

ایک چیف الیکشن کمشنر ہوگا جو انتخابات کا انتظام دیکھے گا۔

آسان الفاظ میں:

ہر بار جب انتخابات ہوں ان کا انتظام ایک الگ ادارہ کرتا ہے جسے الیکشن کمیشن کہتے ہیں اور اس کا سربراہ چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ انتخابی فراہمی صاف اور شفاف ہوں تاکہ ہر ووٹ گنتی میں شمار ہو اور لوگ اپنی مرضی سے ووٹ ڈال سکیں۔

آرٹیکل 222 — انتخابی قوانین

انتخابی قوانین پارلیمنٹ بنائے گی۔

آرٹیکل 226 — خفیہ بیلٹ سے انتخابات

انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوں گے تاکہ کسی کا ووٹ نظر نہ آئے اور ہر ووٹ گنے کیلئے محفوظ رہے۔

نواں حصہ — اسلامی احکامات (آرٹیکل 227 تا 231)

آرٹیکل 227 — قرآن و سنت سے متعلق احکامات

قرآن و سنت سے متعلق احکامات پر عمل کیا جائے گا۔

آسان الفاظ میں:

ملک کے قوانین اور حکومت کے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہونے چاہئیں۔ اسی مقصد کے لیے ایک اسلامی کونسل بھی ہے جس سے پارلیمنٹ مشورہ لے سکتی ہے۔

آرٹیکل 228 — اسلامی کونسل کی تشکیل

ایک اسلامی کونسل ہوگی۔

دسواں حصہ — ہنگامی احکامات (آرٹیکل 232 تا 237)

آرٹیکل 232 — جنگ، اندرونی خلل وغیرہ کی صورت میں ہنگامی حالت کا اعلان

صدر جنگ، اندرونی بے قیدی یا کسی بھی ایسی صورت حال میں ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔

آسان الفاظ میں:

اگر ملک پر کوئی بڑا بحران آ جائے جیسے جنگ یا اندرونی بے قیدی، تو صدر ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتا ہے تاکہ ملک کی حفاظت ہو سکے اور انتظام برقرار رہے۔ ہنگامی حالت میں کچھ بنیادی حقوق معطل کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ وقت محدود ہوتا ہے اور آسانی سے ختم کیا جاتا ہے۔

آرٹیکل 235 — مالی ہنگامی حالت

صدر مالی ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتا ہے۔

گیارہواں حصہ — دستور کی ترمیم (آرٹیکل 238 تا 239)

آرٹیکل 238 — دستور میں ترمیم

دستور میں ترمیم پارلیمنٹ کے ذریعے دستور کے مطابق کی جا سکتی ہے۔

آرٹیکل 239 — دستور ترمیم بل

دستور میں ترمیم کرنے والا بل پارلیمنٹ سے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا چاہیے۔

آسان الفاظ میں:

اگر کوئی قانون یا اصول میں تبدیلی کرنی ہو تو پارلیمنٹ میں دو تہائی ارکان کی رائے سے بل پاس ہونا ضروری ہے، تاکہ دستور آسانی سے تبدیل نہ ہو سکے اور اس کی عزت محفوظ رہے۔ 27ویں ترمیم (2025) بھی اسی طریقے سے پاس ہوئی جس نے فیڈرل کنسٹیٹوشنل کورٹ قائم کی اور عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں۔

بارہواں حصہ — متنوع احکامات (آرٹیکل 240 تا 280)

یہ حصہ خدمات، مسلح قواوں، قبائلی علاقے، عمومی احکامات، تفسیر، آغاز و منسوخی اور عارضی احکامات کا احاطہ کرتا ہے۔

آرٹیکل 240 — پاکستان کی سرکاری خدمات میں تقرریاں

صدر پاکستان کی سرکاری خدمات میں تقرریاں کر سکتا ہے۔

آرٹیکل 242 — پبلک سروس کمیشن

ایک پبلک سروس کمیشن ہوگی۔

آسان الفاظ میں:

سرکاری نوکریاں دینے کے لیے ایک الگ کمیشن ہے جو امیدواروں کی امتحانی اور ان کی مہارت کی جانچ پکڑ کر فیصلہ کرتی ہے تاکہ باقاعدگی اور شفافیت برقرار رہے۔

آرٹیکل 243 — مسلح قواوں کا کمانڈ

صدر پاکستان مسلح قواوں کا کمانڈر ان چیف ہوگا۔

آسان الفاظ میں:

ملک کی فوج (فوج، بحری اور فضائی) کا سربراہ صدر ہوتا ہے جو ملک کی حفاظت، امن و امان اور خود کفی کا ذمہ دار ہے۔ 27ویں ترمیم (2025) نے فوج کے سربراہ کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنا دیا، یعنی تینوں مسلح افواج کی کمانڈ ایک ہی شخص کے پاس ہوگی تاکہ ایک ہی فیصلے سے سب ملک ایک ساتھ کام کر سکیں۔

آرٹیکل 251 — قومی زبان

پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی۔

آسان الفاظ میں:

ہماری قومی زبان اردو ہے۔ سرکاری کام اور اسکولوں میں اردو استعمال ہوتی ہے تاکہ ہر پاکستانی اپنی زبان میں بات کر سکے اور پڑھ سکے۔ انگریزی بھی استعمال ہوتی ہے لیکن اردو کو قانونی طور پر قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔

آرٹیکل 260 — تعاریف

اس حصے میں الفاظ کی تعاریف دی گئی ہیں۔

آرٹیکل 265 — دستور کا عنوان اور آغاز

دستور کا عنوان "Constitution of Pakistan" ہوگا اور یہ 23 مارچ 1973 کو نافذ ہوگا۔

بارہواں حصہ، باب ساتواں — عارضی احکامات (آرٹیکل 267 تا 280)

آرٹیکل 267 — مشکلات دور کرنے کی طاقت

صدر مشکلات دور کرنے کے لیے ضروری انتظامات کر سکتا ہے۔

آرٹیکل 275 — موجودہ ملازمین کی تکمیل

پاکستان کی سرکاری خدمات میں موجود افراد اپنی مدت کے ختم ہونے تک برقرار رہیں گے۔

مراجع

CSS syllabus frequently asked questions

آئینِ پاکستان کیا ہے؟

آئینِ پاکستان ملک کا اعلیٰ ترین دستور ہے جس میں وفاقی نظام، عوام کے بنیادی حقوق اور صوبوں کے باہم تعلقات طے کیے گئے ہیں۔

آئینِ پاکستان میں کتنے آرٹیکل ہیں؟

آئینِ پاکستان میں جملہ 280 آرٹیکل ہیں جو 12 حصوں میں تقسیم ہیں۔

27ویں ترمیم کیا ہے؟

27ویں ترمیم (نومبر 2025) نے فیڈرل آئینی عدالت قائم کی ہے اور عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

References & next steps

آئینِ پاکستان 1973، اردو میں آسان وضاحت اور مثالوں کے ساتھ۔

Found an error? Send the page title, the passage and a supporting source. See our editorial policy for how corrections are handled.

Keep building your skills

Exam preparation

How to Prepare for PPSC One Paper MCQ Tests: A 30-Day Plan

A practical 30-day PPSC preparation plan with a daily timetable, diagnostic tests, subject revision, worked examples and mock-test review.

Read guide →

Study methods

How to Use Past Papers to Prepare for Job Tests

Learn to select useful past papers, verify answer keys, build an error log and turn old questions into fresh practice with worked examples.

Read guide →

English lessons

English Grammar Topics Most Commonly Tested in Job Exams

An English grammar revision checklist with original practice MCQs and explanations covering agreement, tenses, articles, prepositions and voice.

Read guide →

CSS preparation

CSS Syllabus: Complete Subjects & Topic Checklist

Explore the CSS syllabus with compulsory papers, all seven optional groups, MPT marks, detailed topic checklists, FAQs and subject-wise preparation links.

Read guide →

Ramadan planning

Ramadan 2027: Expected Dates, Calendar and Complete Preparation Guide

Explore expected Ramadan 2027 dates, a 30-day calendar, Sehri and Iftar planning, Quran goals, charity checklists, the last ten nights and Eid preparation.

Read guide →

Exam Preparation Guides

Government Job Test Preparation in Pakistan – Complete Guide

Learn how to prepare for government job tests in Pakistan with a practical study plan, subject-wise preparation, MCQs, past papers, official syllabus resources, and interview tips.

Read guide →

Legal Documents

Constitution of Pakistan, 1973 (as amended)

The complete Constitution of Pakistan with all 280 articles organized by Parts, as amended up to the 27th Amendment (November 2025) which established the Federal Constitutional Court and made significant changes to the judicial system.

Read guide →